کشمیری تحریر  پڑھیں اور لکھیں

اگر آپ اردو پڑھ سکتے ہیں تو آپ آسانی سے کشمیری بھی پڑھ سکیں گے۔ بس تھوڑی سے توجہ کی ضرورت ہے۔
کشمیری اور اردو کے حروف تہجی ایک ہی طرح کے ہیں۔ تھوڑا سا فرق جس کی پہچان اور مہارت حاصل کرنے میں تھوڑی سی مشق کی ضرورت ہے۔ ہم دو اسباق میں اس کی وضاحت کریں گے۔

پہلا سبق - حروف                 

بیشتر حروف تہجی دونوں زبانوں میں مشترک ہیں:
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ز س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک ل م ن و ہ ھ ی ے (34)
کشمیری لکھنے کے لیے ہمیں صرف چار اور حروف درکار ہیں:
(ۅ)      (ـ̡ )           (ۯ)        (ژ)
ان حروف کی تفصیل یہ ہے:
1۔      ۅ
اردو اور کشمیری کے دو مشترک الفاظ جن کا تلفظ دو زبانوں میں ذرا مختلف ہوگا، اس حرف کو واضح کریں گے۔
اردو: سُکھ             کشمیری: سۅکھ
اردو: مُکھ            کشمیری: مۅکھ

یعنی یہاں حرف د اور س کے پیش کو کسی قدر کھول کر پڑھنا ہوگا۔ کشمیری میں چونکہ اسے اعراب کی تبدیلی کی بجاٸے الگ حرف سے ظاہر کرتے ہیں اس لیے ضمہ یا پیش کی اس پھیلی ہوٸی صورت کو ہم حروف تہجی میں شمار کرتے ہیں۔
2۔      ـ̡
یہ آواز ہمیشہ لفظ کے آخر میں ہی آتی ہے۔ اس کا استعمال ان الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔
اسـ̡  (ہم)                   زرـ̡  (بہرے)           کھلـ̡  (کھلے)
3۔      ۯ 
اس کو جزم کے ساتھ ر نہیں سمجھنا چاہٸے۔ جب ہم اس کو استعمال کرکے بۯگ لکھیں، تو ر پر جزم تصور کرنے سے اردو قاعدے کے مطابق اس کا تلفظ بۯگَ ہونا چاہٸے۔ یعنی ر پورا ادا ہوگا، اور ساکن ہوگا۔ کشمیری میں ایسا نہیں ہے۔ اس لفظ میں ۯ کی آواز انگریزی لفظ bread میں آنے والے r کی طرح ہے۔ یہ سکون نہیں ہے بلکہ یہاں ر پہلے آنے والے حرف میں مدغم (merge) ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اس کو الگ حرف کے طور پر پہچاننا چاہٸے۔
مثالیں ہیں:             تۯل (مٹی کا ڈھیلا)    تۯیش (پیاس، پینے کا پانی)
4۔      ژ 
حرف ژ کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ اردو اور فارسی میں بھی موجود ہے مگر وہاں اس کی آواز حرف ج سے ملتی ہے۔جیسے مژگاں، ژالہ۔ کشمیری میں یہ ایک الگ آواز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اردو فارسی، ہندی میں موجود نہیں، اور ایک لحاظ سے یہ حرف چ کی بدلی ہوٸی صورت ہے۔ (یہ آواز ہم ہندوستان میں شاید مراٹھی میں، اور یورپ میں روسی میں سنتے ہیں)۔ کشمیری الفاظ کی مثالیں ہیں:
مژر (دیوانگی)، ژادر (چادر)، ژم (کھال، جِلد)، ژکھ (غصہ)
ہم نے دو حروف، ء (ہمزہ) اور ڑ کا ذکر نہیں کیا۔ ہمزہ کا استعمال اردو کے طریقہ پر بھی کیا جاتا ہے، اور مختلف طریقہ سے بھی۔ مثلا ً حلقۂ عمل یا حلقے عمل۔ کشمیری میں ڈ کی آواز معتبر ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ کچھ ایسے الفاظ کے لیے ڈ یا ڑ کی آواز نکالتے ہیں، حیسے یور (یہاں) کی بجاے یوڑ کہتے ہیں ایسے الفاظ کے لیے ڑ کے استعمال کا جواز موجود ہے، مگر عام طور پر اس کو نظر اندز کیا جاتا ہے۔
گویا کل ملا کر کشمیری کے حروف تہجی یہ ہوٸے:
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ     ذ ر ۯ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف    ق ک گ ل م ن و ۅ ہ ھ ـ̡  ی ے (39) میں صرف چار کشمیری سے مخصوص ہیں۔ یہاں نون غنّہ کا بھی ذکر مناسب ہوگا کہ اس کو کبھی کچھ لوگ الگ حرف تصور کرتے ہیں، لیکن اب اکثر اس کو حرف ن کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے دیگر اختلافی معاملات سے اس مضمون میں صرف نظر کیا گیا ہے۔

دوسرا سبق - اعراب

اردو کے اعراب  َ (فتح یا زبر)، ِ (کسرہ یا زیر)،  ُ (ضمہ یا پیش)، آ (مد) اور دو حروف کی درمیاں آنے والی چھوٹی ی کے نیچے پڑنے والی لمبی زیر  ٖ  (میٖر)، تشدید، تنوین، اور یٰ سے آپ پہلے ہیں واقف ہیں، ان سب کا کشمیری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ آپ اردو جانتے ہیں تو یہ کشمیری جملے آپ کسی مزید کوشش کے بغیر پڑھ سکیں گے:
آب اوس تُرُن (پانی ٹھنڈا تھا)۔ سُہ چُھ گاٹُل (وہ عقلمند ہے) تس آسِہ سون پھیران (اس کو ہماری یاد آرہی ہوگی)
کشمیری میں ان کے علاوہ مزید اعراب راٸج ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
1۔ زبر (فتحہ) کو لمبا کرکے: ٔ اور ٲ
ٔ       لفظ تر میں آپ ت پر زبر ڈال دیں تو یہ تر (گیلا، پار کرو، بیج سے نکلنے والا آنکڑا) ہوگا۔ زبر کی بجاٸے آپ ٔ ڈال دیں تو یہ تٔر [وہ (عورت) پار کرگٸی] ہوگا۔ اسی طرح، گٔر (گھڑی)۔ لٔٹ (دُم)   
ٲ         ‍زبر کی یہ سب سے لمبی صورت ہیشہ الف کف ساتھ ہی مربوط ہوتی ہے۔ مثال یہ ہے:
تٲر (دیری، اس لفظ کے اور بھی معانی ہیں)، کٲر (گردن)، وغیرہ۔  
2۔ زیر (کسرہ) کو لمبا کرکے:
ِ       یہ  زیر کی لمبی صورت ہے۔ ہم پھر لفظ تر ہی لیں گے۔ آپ ت کے نیچے زیر رکھ لیں تو یہ تِر (تِرکش) ہوگا۔ اب آپ زیر کی بجاٸے         ِ رکھ لیں تو یہ تٕر (چیتھڑا) ہو گا۔ اسی طرح ژٕ (تم)
ٍ       یہ زیر ہی کی اور بھی لمبی صورت ہے۔ آپ اسی لفظ تر میں حرف ت کے نیچے یہ علامت رکھ لیں تو یہ  تٍر (سردی) ہوگا۔ اسی طرح کٍژ (کتنی)۔

3۔ پیش (ضمہ) کو لمبا کرکے
وٝ        یہ علامت ہمیشہ حرف و کے ساتھ مربوط رہتی ہے یعنی و + الٹی پیش۔ اردو میں ہم حرف واو سے پہے آنے واے حرف پر پیش لکھ کر اس آواز کو ادا کرتے ہیں جیسے بُو، خُو وغیرہ۔ کشمیری میں بھی ایسے لکھنا بھی جاٸز ہوگا۔

ۆ        کشمیری کی یہ مخصوص آواز پیش اور اوپر بتاٸے گٸے حرف ۅ کے درمیاں تصور کی جا سکتی ہے۔ مثال ہے:
دۆب (دھوبی) کۆب (کُبڑا)، گۆن (گھنا)، دۆد (جل گیا)
5۔ ێ اور ى۪            ان دونوں علامتوں سے حرف ی کی آواز کو تنگ کیا جاتا ہے۔ کشمیری تلفظ اور تحریروں میں کٸی دفعہ لوگ ان کو بلا تفریق استعمال کرتے ہیں۔ اس لیس ہم ان کا الگ الگ ذکر کرنے کی بجاٸے دو ایک مثلیں دیں گے: کیا بہ معنی what کو کیا بہ معنی did سے الگ کرنے کے لیے آپ کی٘ا لکھیں، یا بیل (bell) کو بى۪ل لکھیں گے۔ 
اب آپ کشیری کے تمام حروف اور علامتوں سے واقف ہیں۔ نیچے لکھی گٸی مختصر عبارت کی تھوڑی سے مشق اپنے پیغام کے علاوہ آپ کو کشمیرـی لکھنے کی مکمل مہارت دی گی۔ (اردو اور کشمیری کے مشترکہ اعراب کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن پہلے ان اعراب کو دیکھیں اور ان کی آواز سنیں:


1۔ ۅ ) سۅکھ، مۅکھ 2۔ ـ̡ ) اسـ̡ ، زرـ̡ ، کھلـ̡  3۔ ۯ ) تۯل، تۯیش 4۔ ژ ) مژر، ژادر، ژم 5۔ ٔ ) تٔر، گٔر، لٔٹ 6۔ ٲ ) تٲر، کٲر 7۔ ٕ ) تٕر، ژٕ 8۔ تٍر، کٍژ 9۔ ۆ ) دۆب، کۆب، گۆن    


کٲشِر زى۪و چھےٚ کٲشرى۪ن ہن٘دِ تہذیٖبی وجوٝدُک ثبوٝتھ۔ أمِچ لیکھٕ پٔر گژھِ صاف تہٕ ضٲبطہٕ بن٘د آسٕنـ̡۔ علم پۯاونُک، اِظہارُک تہٕ بدلوٕنِس دُنـ̡ یہس سٍتـ̡  پٔدِس پۆد رلٲوِتھ پکنُک با اثر ؤسیٖلہٕ چُھ قلم، تہٕ قلم چُھ وۅنـ̡  کمپیوٝٹرکِس بغلس من٘ز۔
(ان اعراب کو  یہاں صرف ان کا استعمال سمجھانے کے لیے برتا گیا ہے۔ عام تحریروں میں اردو ہی کی طرح کشمیری میں بھی اعراب سے اکثر صرف نظر کیا جا سکتا ہے۔ کس حد تک؟ اس کا انحصار لکھنے والے کی عقل عامہ پر ہو گا۔ میں یہی جملے یوں بھی لکھوں گا۔
کٲشر زى۪و چھہ کٲشرى۪ن ہندِ تہذیبی وجوٝدک ثبوٝتھ۔ أمچ لیکھ پٔر گژھ صاف تہ ضٲبطہ بند آسنـ̡۔ علم پۯاونک، اظہارک تہ بدلوٕنس دُنـ̡ یہس سٍتـ̡  پٔدس پۆد رلٲوتھ پکنُک با اثر وسیلہ چُھ قلم، تہ قلم چُھ وۅنـ̡  کمپیوٝٹرکس بغلس منز۔

پہلے ان جملوں کے 41 لفظوں میں 203 کیرکٹر اور 243 کیریکٹر تھے اب ان ہی 41 لفظوں میں 178 کیریکٹر ہیں، یعنی 12.31% کمی ہوگٸی۔ لیکن یہ مسٸلہ املا کا ہے اور اس پر الگ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں مقصود صرف فانٹ اور کیبوڈ کے امکانات کو ظاہر کرنا تھا۔